خانگی امور کا بوجھل پن اور رمضان کے تقاضے۔

تحریر عبدالحفیظ

قومی آواز
نیوسعیداباد ھالا سندھ

آج کل ہر طرف ایک ہی چرچا ہے کہ خواتین رمضان سے قبل مہینہ بھر کا کچن کا کام ہلکا کرلیں مثلا لہسن پیس کر رکھ لیں,پیاز کو براؤن کرکے ہیس لیں,سموسے رول مہینہ بھر کے بنالیں,ٹماٹر پیس کر ابال کر فریز کر لیں..اک خاتون نے کہا چاول بھگوکر خشک کرکے تھیلیوں میں رکھ لیں,اک خاتون نے ٹی وی پر مشورہ دیا کہ فروٹس کاٹ کر زپ لاکس میں رکھ لیں شیک اور چاٹ کے کام أئیں گے وقت بچے گا. مزید مشورے سفید سیاہ چھولے ابال کر پیکٹ بنالیں,دال کے بڑے تل کر پیکٹ بنا لیں,اک مشورہ تھا املی کی میٹھی چٹنی کیریوں کی کھٹی میٹھی چٹنیاں جار میں بھر کر رکھ لیں اور سبزیاں کچھ ابال کر کچھ بن ابلی فریز کرلیں,اک سگھڑ خاتون نے کہا پراٹھے ادھ کچے مہینہ بھر یا ھفتہ بھر کے بنا کر فریز کر دیں..
سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں کریں؟؟ گھر کے کام کاج کو دماغ پر سوار کیوں کرلیں؟؟ اگر ہم ملازمت پیشہ ھے تو فکر دوسری طرح کی ہوگی وہ خواتین تو عام روٹین میں بھی یہ سب کچھ کرتی ہی ہونگی..
مشورے ہیں کہ شعبان کے مڈ سے یہ تیاری شروع کردیں اور ہم سارے سر دھن رھے ھیں کہ واقعی…. میں عورت کتنی مجبور کہ خانگی امور کابوجھل پن اور رمضان کے تقاضے!!!!!
.
کیا ہماری عبادتیں,ریاضتیں بہت بڑھ گئ ھیں یا وہ ناخواندہ تھے ھم اعلی تعلیم یافتہ اس لیے اتنا فکر مند ھیں کہ کچن کا کیا ھوگا رمضان میں..ایساکچھ ھو جایے کہ بٹن دباؤں تو کھانے کی تھیلیاں لڑھک کر خود مائیکروویو میں چلی جائیں اور روبوٹ ٹیبل تک سموسے,دھی بھلے,فروٹ چاٹ,شیک اور بریانی کوفتہ سب سجا دے..
کیاھم نہیں جانتے کہ گھر کے کام عبادت ھیں؟؟

یہ مضمون آپ قومی آواز ٹورنٹوپر پڑھ رہے ھیں
جتنا بھرا ھوا فریزر ھوتا ھے دماغ بوجھل ھوتا ھے کہ کوئی چیز زیادہ پرانی نہ ہوجائے.
ھم کتنی عبادت کرتے ھیں کہ گھر کے کام حائل ھوجائیں گے اور کھانا پکانا وقت کتنا لیتاھے ؟؟ بلکہ آپ کچن میں جاتی ہیں تو روزے کی قدر دانی بڑھتی ھے
سوال یہ ھے دسترخوان پر ہر روز سموسے,رول ,پکوڑے اور چھولے کیوں ہوں؟؟کیا افطار کے دسترخوان پر کوئی مشروب اور کھجور کافی نہی؟؟ں مشروب لسی بھی ھوسکتی ھے سیب, چیکو یا کھجور کا شیک بھی,پھر کھانا تو تیارہی ھے فوری بعد نماز مغرب کھانا لگائیں تراویح سے قبل کچھ سستانے اور کچن سمیٹنے کا بھی وقت مل جائیگا پھر تراویح کے بعد کچن کا جھنجٹ بھی ختم..
کھانے میں سالن ھو یا چاول وغیرہ ..خوب بھوک ھوتو دال چاول بھی سلاد کے ساتھ مزہ دے جاتے ھیں .افطاری سے بوجھل پیٹ بریانی اور کوفتوں کی بھی لذت محسوس نہیں کرتا..
اصل میں امتحان کا وقت ھے عصر اور مغرب کے بیچ جب نفس کی خواھشیں ابھر ابھر کر سامنے آتی ھیں کہ کتنے بے چارے ھوتم ..سارے دن کی بھوک پیاس کی مشقت کے بعد اب تو افطار سے بھرا دسترخوان تمھارا حق بنتاھے…
امام غزالی رح فرماتے ھیں کہ آپ کے روزے کا اصل امتحان آپ کے افطار کے دسترخوان پر ھوتا ھے کہ نفس کو مارنے کی کتنی تربیت ھوئی ھے ؟؟
سوچنے کی بات یہ ھے کہ دسترخوان کیسے ھلکا ھوکہ معدہ ھلکا ھو اور عبادت کا لطف آئے..
گیارہ مہینہ خوب کھایا ھے اب بھی صرف کھانے ہی کے بارے میں سوچ رہے ہیں کہ پیٹ خالی بھی ھے تو کیا فریزر تو ماشاءاللہ لبالب بھرا ھواھے کہ اک چیز نکالنے میں بھی دس منٹ لگ جاتے ھیں.
اب کھانے سے آگے سو چنا ہے..
گھر کے کام خالصتا عبادت ہیں..کام کو ہلکا کریں خواہشوں پر ضرب لگا کر…رمضان فرمائشی پروگرام نہیں ھے کہ ھر اک کی الگ فرمائش..
گھر کے مرد بھی ھاتھ بٹائیں تو کوئی ذمہ داری بوجھل نہیں ھوتی..
رمضان کو بوجھ نہ سمجھیں کہ ہلکان ھوجائیں کہ اور کیا رہ گیا رمضان سر پر آگیا!!!یہ رمضان کی تیاری نہیں ھے..رمضان کی تیاری تو تہجد کی بیداری, کم کھانے کی مشق اور قرآن سے تعلق کی استواری ھے…
رمضان تو مشقت کا مہینہ ھے غزوات اور فتح مکہ کا ماہ مبارک ھے..بڑی بڑی فتوحات اس ماہ میں ہوئیں اسلامی تاریخ کی…
اک مسلمان عورت کے لیے خانگی ذمہ داری نہ بوجھل ھے نہ یہ ہلکان ھونے کے عنوانات..
افطار کے بعد اک روز بی بی عائشہ رض نے خواھش ظاھر کی کہ زیتون کی چپڑی روٹی کے ساتھ کوئی سالن ھوتا توکتنا اچھا ھوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا .عائشہ کیا زیتون کے ساتھ بھی سالن کی گنجائش رھتی ھے؟
بس بچنا اسی لذت کام ودھن سے ھے اور خواہشوں کے سراب سے..
لعلکم تتقون….سب کا بچنا الگ الگ ھوگا اس لیے کہ سب کے نفس کے تقاضے الگ الگ ھیں.
——————-


متعلقہ خبریں