بیگم کو خوش دیکھنا ہے تو20کاموں کو عادت بنا لیں

قومی آواز ازدواجی تعلقات۔ لاہور. میاں بیوی کا رشتہ صرف حقوق و فرائض سے عبارت نہیں ہونا چاہئے۔ اگر آپ کا رشتہ ایسے ہی بوجھل پن کا شکار ہے اور آپ دونوں حقوق کی وصولی اور فرائض کی ادائیگی کو ہی اس رشتے کو نبھانے کیلئے کافی سمجھتے ہیں تو یہ آپ کی زندگی کی سب سے بڑی حماقت بھی ہوسکتی ہے جس کا مستقبل میں آپ دونوں میں سے کسی ایک کو خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔اگر آپ شوہر ہیں تو اس رشتے کو خوشگوار بنانے میں آپ ایک اہم کردار کرسکتے ہیں۔ مندرجہ ذیل کاموں کو اپنا معمول بنا لیں اور روزانہ بیگم کو حیران کریں۔

  • گھر سے نکلتے، گھر میں داخل ہوتے یا پھر موبائل پر میسج پر گفتگو کے دوران انہیں بتائیں کہ آپ ان سے محبت کرتے ہیں۔

بیگم کیلئے سرپرائز کا اہتمام کریں۔ انٹرنیٹ پر ڈیلز عام ہیں، بیگم کیلئے کسی بیوٹی پارلر سے وقت لیں اور ان کیلئے مینی کیور پیڈی کیور وغیرہ کا بندوبست کریں۔
کسی دن بیگم کو حیران کردیں اور صبح دفتر کی تیاری جیسا کہ کپڑے استری کرنا، یا جوتے پالش کرنا وغیرہ خود کریں۔
اسی طرح کسی دن دفتر سے واپسی پر اپنے تمام کپڑے وغیرہ خود کسی مناسب جگہ پر ٹانگیں۔ جوتوں کے ریک میں جوتے رکھیں اور میلے کپڑے ٹوکری میں ڈالیں۔
صبح دفترجانے سے پہلے ڈریسنگ ٹیبل کی حالت بگاڑنے سے پرہیز کریں یا اگر اسے بگاڑے بغیر آپ کی تیاری مکمل نہیں ہوسکتی تو اسے دوبارہ درست حالت میں لائیں۔
کسی دن صرف ماحول میں تبدیلی کے لئے آپ بیگم سے کوئی شکایت نہ کرنے کی پالیسی بھی اپنا سکتے ہیں۔
بیگم کے ہمراہ قصے کہانی کی محفل جمائیں۔ کسی کتاب سے کوئی اچھا سا اقتباس پڑھ کے انہیں سنائیں۔
رات ان کے کمرے میں آنے سے قبل بستر ٹھیک کریں۔
اگر آپ دونوں علیحدہ علیحدہ گاڑیاں استعمال کرتے ہیں تو کسی دن گھر کے اندر ان کی گاڑی لانے کی ذمہ داری خود اٹھالیں۔
باورچی خانے کے کوڑے دان کو مخصوص جگہ پر خالی کریں۔
برتنوں کو ڈش واشر سے نکالیں یا گندے برتنوں کو اس میں جمائیں۔
رات سونے سے قبل کھڑکیاں، دروازوں کی کنڈیاں خود دیکھیں کہ بند ہیں یا نہیں۔
باورچی خانے میں کام کاج کے دوران بیگم کے آس پاس رہیں۔

بیگم کو اچانک کھانا پکا کے یا ڈلیوری گھر منگوا کے حیران کردیں۔
آخر میں یہ کہنے کی تو ہرگز ضرورت نہیں کہ بیگم کی تعریف کریں، یہ کام مندرجہ بالا تمام کام نہ کرنے کی صورت میں اور بھی ضروری ہے۔