میں آج ہی تاریخ بدل دوں؟

جتنے وقت میں ہمارے یہاں بچے جوان نہیں ہوتے اس سے بھی کم وقت میں ہمارے یہاں کے نظریات تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ جو بچے ہمیں قیام پاکستان کے وقت ملے تھے انھیں دو قومی نظریات کے ساتھ قائد کے سیکولر نظریات بھی بتائے گئے۔
پھر ہمیں قرارداد پاکستان کے مطابق ایک اسلامی ریاست کا درس دیا گیا۔ پھر ایک صاحب آئے اور انھوں نے آئین میں ہی عوامی پاکستان لکھا۔ پھر ایک نے ہمیں نعرہ دیا کے سوشلزم ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ ابھی جن بچوں نے یہ نعرے سُنے تھے ان کے جوان ہونے تک ہم امیر المومینن کے سائے میں آ چکے تھے۔
ان کا جہاز گرتے ہی ہم جہموریت کے چیمپئن بن گئے۔ اور ایک دن ہمیں پتہ یہ چلا کہ اب جو بچے پیدا ہونگے انھیں ’’سب سے پہلے پاکستان ‘‘ کے ساتھ روشن خیال پاکستان کا درس بھی دینا ہے۔ ابھی دل نے یہ ماننا شروع کیا تھا کہ ہمیں کہا گیا کہ اب تک جو بچوں کو پڑھایا گیا وہ سب بکواس تھا۔ اب آنے والے بچوں کو یہ بتائیں کہ جمہوریت ہی بہترین انقلاب ہے۔ مفاہمت سے ہی ہماری دوزخ، جنت میں بدل جائے گی۔ ابھی ان بچوں کے پولیو کے قطروں کے پانچ سال بھی پورے نہیں ہوئے کہ ہمیں کہا گیا کہ تمام ماؤں کو یہ بتایا جائے کہ وہ لبرل ڈیموکریٹک بچے پیدا کریں۔
نا جانے کیا کیا اس ملک کو دیکھنا ہے۔ یہاں ابھی موسم نہیں بدلا ہوتا کہ بیان اور پالیسی تبدیل ہو جاتی ہے۔ قول اور عمل کا فرق اتنا بڑا ہے کہ ہر بیان ایک لطیفہ محسوس ہوتا ہے۔ اب آپ دیکھیں کہ بلاول بھٹو صاحب جوش خطاب میں فرماتے ہیں کہ سرمایہ داروں اور وڈیروں سے مزدوروں اور کسانوں کے حقوق واپس دلائینگے ۔ اب بلاول کو یقیناً بہت محنت کرنا پڑے گی۔ کیونکہ انھیں یہ تو بتایا ہی نہیں گیا ہو گا کہ ان کے قریب کتنے وڈیرے موجود ہیں۔
اسی طرح سے وزیر اعظم نواز شریف صاحب کو سب سے پہلے اپنی جماعت سے یہ بات شروع کرنی ہو گی۔ کہ وہاں کتنے لبرل لوگ موجود ہیں اور ان کی جماعت میں کتنا ’’ڈیموکریٹک‘‘ نظام موجود ہے۔ جب سب لوگ بات کر سکتے ہیں تو پھر جماعت اسلامی کے امیر نے کسی کا کیا بگاڑا ہے۔ اگر انھوں نے یہ کہہ دیا کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال آج زندہ ہوتے تو اسلامی جمعیت میں ہوتے۔ میرا خیال ہے شاید اُس دن وہ لوگ جمعیت جوائن کر لیتے لیکن انھیں کچھ دن پہلے ہی کسی نے کہہ دیا ہو گا کہ ٹریننگ کے لیے پہلے کراچی یونیورسٹی جانا ہو گا جہاں ’’بلے‘‘ چلانے کی پریکٹس کرنی ہو گی۔
میں بیانات کی دنیا میں سچ کو تلاش کر رہا تھا۔ تو دیکھا کہ یہاں تو روز کی بنیادوں پر بیانات اور دوست تبدیل ہو تے ہیں۔ یہاں جماعت کی پالیسی سے لے کر قومی پالیسی بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کب تک لبرل ڈیموکریٹ رہتے ہیں۔ آئیے آپ کو ماضی میں لے جاتا ہوں۔ نواز شریف صاحب کے پہلے دور اقتدار میں جب اُن کے تعلقات اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان سے خراب ہو گئے تو 18 اپریل 1993 کو انھوں نے اسمبلی توڑ کر سب کو گھر بھیج دیا۔
معاملہ سپریم کورٹ میں گیا اور 35 دن بعد عدالتی فیصلے کے بنیاد پر ان کی حکومت بحال کر دی گئی۔ اب ایسے میں ایک میان میں دو تلواریں رہ نہیں سکتی تھیں۔ یعنی حکومت نواز شریف صاحب کی ہو اور انھیں ہٹانے کی طاقت صدر کے پاس۔ ایسے میں اپوزیشن نے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔ اسحاق خان کے رابطے بینظیر صاحبہ سے ہو چکے تھے۔
لیکن دونوں طرف سے اعتبار کی کمی تھی۔ اور پھر ایک شٹل ڈپلومیسی ہو ئی۔ جس میں اُس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل وحید کاکڑ نے اہم کردار ادا کیا۔ اور طے یہ ہوا کہ سب گھر جائینگے۔ یعنی نواز شریف صاحب کی حکومت اور غلام اسحاق خان کی صدارت۔ جس کے مطابق 18 جولائی 93 کو حکومت ٹوٹ گئی۔ اور اس فارمولے کے مطابق اگلے الیکشن کی تاریخ 6 اکتوبر طے ہوئی۔ اور پھر باہر سے منگوایا ہوا ایک وزیر اعظم کرسی پر بیٹھ گیا۔ اور پھر وہ ہی محلاتی کابینہ بنا دی گئی جو ہمیشہ ایسے موقعہ کے لیے اپنی شیروانی تیار رکھتے ہیں۔
اس موقعہ پر عمران خان بھی کافی سرگرم تھے اور ان کی سیاست میں آنے کی افواہیں گردش کر رہی تھی اور اسی سال 30 جولائی کو انھوں نے کہا تھا کہ میرا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں اور میں نواز شریف اور بینظیر کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ وقت کے ساتھ سب بدلتا رہتا ہے۔ عمران نے بھی یہ بات کہہ دی ہو گی۔ لیکن اب اُن کا نقطہ نظر کچھ اور ہے۔ اب آئیے اُس وقت کی سیاست پر۔
کیونکہ اُس وقت برا وقت نواز شریف کا چل رہا تھا تو ایک ایک کر کے لوگ اُس سے الگ ہونے لگے۔ اور حکومت جانے کو ابھی ایک مہینہ بھی نہیں ہوا تھا کہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ نواز شریف کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ یہ بات ہے 17 اگست 93 کی جب جنرل ضیاء الحق صاحب کی پانچویں برسی بنائی جا رہی تھی۔ یہ برسی بہت اہم تھی کیونکہ نواز شریف کو سیاست کے میدان پر ضیاء الحق ہی لائے تھے۔ اور اب الیکشن بھی ہونے والے تھے۔
اس برسی میں اُس وقت افغانستان کے وزیر اعظم گلبدین حکمت یار اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ ایک بڑا مجمع تھا۔ اور نواز شریف صاحب نے پرجوش تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضیا ء الحق کے مشن کو پورا کرینگے۔ میری الجھن وہی ہے کہ پہلے اگر ضیاء کا مشن تھا تو کیا وہ پورا ہو گیا۔ جو اب ہم لبرل ڈیموکریٹک بننے جا رہے ہیں۔ اور کوئی مجھے یہ سمجھا دے کہ اگلے پانچ سال بعد ہم کیا بننے جا رہے ہونگے۔
اب آئیے اُس جماعت پر کہ جس نے یہ دعوی کیا تھا کہ وہ اس ملک میں سوشلزم کو نافذ کرے گی۔ وہ بڑے بڑے سرمایہ دار گھرانوں کو ختم کر کے فیکٹریاں مزدوروں کو دے دیگی۔ اور پھر بھٹو کی حکومت ختم ہو گئی۔ جب بینظیر کا پہلا دور شروع ہوا تو پالیسی بلکل مختلف تھی۔ ہر جگہ نج کاری کی بات کی جا رہی تھی۔ اور پھر نواز شریف آئے اور چلے گئے۔ الیکشن مہم جاری تھی۔ یکم اگست 93کی بات ہے سابق صدر آصف علی زرداری سکرنڈ میں خطاب کر رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کامیاب ہو گئی تو کسانوں کو اُس کا حق مل جائیگا۔ سرمایہ داروں اور جاگیر داروں سے ہماری کھلی جنگ ہے۔ غور کیجیے کہ آج سے 22 سال پہلے کہ بیان اور آج کے بلاول کے بیان میں کیا فرق ہے۔ اس دوران پیپلز پا رٹی کی حکومت دو بار بنی ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس وقت پاکستان میں بہت بڑی تبدیلی آ چکی ہو گی۔ جو شاید ہمارے چشمے دیکھ نہیں سکتے۔
آئیے ان کی بات بھی کرتے ہیں جو یہ دعوی کر چکے ہیں کہ بانیان پاکستان ان کی جماعت میں شامل ہو چکے ہیں۔ اُس زمانے میں قاضی صاحب تازہ تازہ نواز شریف سے علیحدہ ہوئے تھے۔ اور کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح مذہبی جماعتوں کا اتحاد بن جائے۔ ان کی یہ خواہش دس سال بعد پوری ہو گئی تھی۔
لیکن 13 اگست 93 کو کراچی کے معروف نشتر پارک میں انھوں نے دل ہلا دینے والی تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر ایک مہینے میں اسلامی انقلاب برپا کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ یوں تو انھیں ضیاء دور میں ایک مہینے سے زیادہ ملا تھا۔ اور خیبرپختوانخوا میں تو دوسری باری لگی ہوئی ہے۔ لیکن سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ ایک مہینہ کب ختم ہو گا۔
کہنا یہ ہے کہ جیسے عوام کے حال نہیں بدلے اسی طرح ان کے بہانے اور نعرے بھی نہیں بدلے۔ ہاں چلتے چلتے ایم کیو ایم تو رہ گئی۔ یہ 20 اگست 93 کی بات ہے۔ جناح گراونڈ میں ایک جلسہ ہوا۔ جس میں الطاف حسین صاحب کا ریکارڈ شدہ پیغام چلایا گیا۔ جس میں کہا گیا کہ ہم جمہوریت، قانون اور انصاف کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ ایم کیو ایم امن پسند جماعت ہے، فوج کا ہم دل سے احترام کرتے ہیں، ہمارے خلاف آپریشن ختم کیا جائے۔
تاریخ صرف کیلنڈر پر بڑھی ہے ہماری تاریخ تو انھیں نعروں کے گرد گھوم رہی ہے۔ میں جوان سے بوڑھا ہو گیا اور لگتا یوں ہے کہ اگلے 20 سال بھی یہ نعرے یہ ہی وعدے ہونگے۔ اگر آپ کو شکایت نا ہو تو میں آج تاریخ 11 نومبر 2035 لکھ دوں؟

شکریہ : ایکسپریس پی کے


متعلقہ خبریں