پولیس نے مارکھم کے علاقے میں حادثے کے بعد فرار ہونے والی گاڑی کی ویڈیو ریلیز کر دی
پیل ریجن میں جعلی نوٹوں کی گردش کا انکشاف، پولیس کا شہریوں کو ہوشیار رہنے کا انتباہ
دو بچوں کی ماں کانشے کی حالت میں گاڑی چلانے اورایکسیڈنٹ کرنے پر چالان ، اسکار بورو پولیس
November 20, 2017 قومی آواز ۔ ٹورنٹو: پولیس آفیسر کی نشے کی زیادتی سے ہلاکت کے بعد پولیس اہلکاروں کی چیکنگ کا معاملہ زور پکڑ گیا ٹورنٹو پولیس کے ایک اعلامیے کے مطابق ایک پولیس آفیسر کے نشے کی زیادتی کی وجہ سے ہلاکت کے بعد شہری حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ پولیس کے اہلکاروں وقتاً فوقتاً چیکنگ کی جائے تاکہ ان کی صحت اور نشے کی کیفیت کی بر وقت جانچ کی جا سکے ۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ٹورنٹو پولیس کا ایک آفیسر مائیکل تھامسن نشے کی زیادتی کی وجہ سے اسپتال لایا گیا جہاں وہ ہلاک ہو گیا۔ مذکورہ پولیس آفیسر خود نشے کا تدارک کرنے والی فورس کا رکن تھا ۔اس واقعے کے بعد ٹورنٹو پولیس کی اہلیت اور کارکردگی پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں جلد ہی اقدامات متوقع ہیں جس سے صورتحال بہت ہو جائے گی۔ 
مسی ساگا میں خاتون پر چاقو سے حملہ ، خاتون حملہ آور کو پولیس نے گرفتار کر لیا
اسپیڈینا ریلوے اسٹیشن پر مسافروں پر مرچ اسپرے سے حملہ ، دو مسافر زخمی حملہ آور فرار
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا استعفیٰ دینے سے انکار
کوئٹہ: پاک - چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے مشترکہ ایئرشو
اسلام آباد دھرنا ختم نہ کرانے پر انتظامیہ کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری
زمبابوین صدر کا قوم سے خطاب، استعفے کا ذکر تک نہ کیا

شیطان کے پیروکار

شیطان کے پیروکار

آئیبن تھرین ہوم ۔ آر ٹی
قومی آواز ۔ شیطان پرست محض پُراسرار سنکی قسم کے لوگ نہیں جو سیاہ لباس پہن کر خفیہ مجلسوں میں جانوروں کی قربانیاں کرتے ہوں۔ اب یہ عام لوگ بن گئے ہیں جو خود کو ‘سیکولر’ کہتے ہیں۔عقل اور انفرادی سوچ کی آزادی کی وکالت کرتے ہیں۔

امریکا میں عوامی حکومتی اجتماعات میں اب شیطان پرست کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ اگست کے مہینے میں الاسکا میں مقامی کونسل میٹنگ کے دوران ‘شیطانی مندر’ کی ایک رکن کو ابلیس کی عبادت کرنے کی اجازت دی گئی۔ اسمبلی کے ارکان اس کے گرد دائرے کی صورت میں کھڑے ہوئے جب شیطان کی پیروکار نے ان سے کہا کہ ‘علم کے درخت سے پھل کھانے کی شیطان کی فطری خواہش سے خود کو ہمکنار کرلو’۔ پھر اس نے اس رسم کا اختتام ‘شیطان زندہ باد’ کے نعرے پر کیا۔
اجلاس کے شرکاء کو یاد دہانی کرائی گئی تھی کہ ان کے لیے ابتدائی رسم میں حصہ لینا ضروری نہیں۔
ٹی ایس ٹی (The Satanic Temple) ایک قدرے نئی تنظیم ہے جس کی بنیاد 2013 میں رکھی گئی۔ یہ سیاست میں عیسائیت کو دی جانے والی فوقیت کے خلاف سیاسی تبدیلی کے لیے لڑرہی ہے۔ ٹی ایس ٹی امریکا اور یورپ میں کام کررہی ہے اور ایک لاکھ ارکان رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے۔
اس گروپ کا ایک مقصد سرکاری سکولوں میں ابلیس کے لیے جگہ بنانا ہے اور اس کام کے لیے ‘آفٹر سکول سیٹن’ کلب قائم کئے جارہے ہیں۔ لاس اینجلس، سالٹ لیک سٹی اور واشنگٹن ڈی سی میں 9 کلب بن چکے ہیں۔ ان کی تشہیری ویڈیو کے مطابق کلبز کا مقصد ‘عقلیت پسندی، سوال کی آزادی اور موج مستی’ ہے۔ ٹی ایس ٹی ایسے علاقوں میں کلب قائم کرنے پر توجہ دے رہی ہے جہاں پہلے سے عیسائی بچوں کے کلب کام کررہے ہیں۔

امریکا کے 3500 سکولوں میں 5 سے 12 سال کے بچوں کے لیے ‘گڈ نیوز کلب’ قائم ہیں جو عیسائیت کے فروغ کا کام کررہے ہیں۔ ٹی ایس ٹی کے ترجمان کے مطابق یہ کلب بچوں میں ‘جہنم
اور خدا کے قہر کا خوف’ بھرتے ہیں جبکہ ان کے کلب اس کا نعم البدل ہیں۔
ٹی ایس ٹی کا مقصد سرکاری سکولوں کی لائبریریوں میں شیطانی کتب رکھوانا اور کھیلوں کے آغاز میں شیطانی مناجات ادا کرنا بھی ہے۔عام طور سے یہ لوگ اپنی ٹیکسٹنگ میں ل و ل کو استعمال ہی ابلیس کی تعظیم میں لکھتے ہیں اور انکی تنظیم کے چارٹر کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ اس منحوس  ل و ل کا استعمال لوگوں کی روزمرہ کی گفت شنید میں سرایت کر جائے۔ خاص طور سے وہ مذاھب انکا نشانہ ہیں جہاں ورد کی روحانی حیثیت کو تسلیم کیا جاتا ہو ۔ لھذا ہمیں چاہیے کہ جہاں شک کا عنصر آجائے اس چیز سے دور رہا جائے ۔
یورپ کی جانب دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی مذہبی لحاظ سے اُلٹی سمت میں چل نکلا ہے۔ جون میں سوئٹزرلینڈ میں دنیا کی سب سے بڑی سرنگ کی افتتاحی تقریب ہوئی جس میں جرمن چانسلر اینجلا مرکل، فرانسیسی صدر فرانکوس اولاندے اور اطالوی وزیراعظم میتیو رینزی شریک ہوئے۔ اس تقریب میں گھاس کا لباس پہنے ماسک لگائے لوگوں نے رقص کیا، چھت سے ‘دھتکارے فرشتے’ اور بکرے کے سر والا آدمی اُترا جس کے گرد ایسے رقص کیا گیا جیسے اس کی عبادت کی جارہی ہو۔ اس افتتاحی رسم کو بعد میں جہنم میں شیطانی منظر تعبیر کیا گیا۔
ایک ریسرچ کے مطابق امریکا میں کسی مذہب کو نہ ماننے والے، کسی خدا کو نہ ماننے والے یا کسی کو بھی نہ ماننے والوں کی تعداد 23 فیصد ہے جو 2007 کی نسبت 16 فیصد زیادہ ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ‘عقلیت پسندی اور مذہب سے آزادی’ کی کوشش کرنے والوں نے شیطان جیسی مخلوق کو اپنا سربراہ کیوں منتخب کیا؟ کیا یہ ایسا نہیں کہ روایتی روحانیت کو رد کرتے ہوئے اس کے متبادل پر ایمان لایا جارہا ہے؟
تضاد یہ ہے کہ مذاہب نے عقلیت پسندی کے مطابق خود کو ڈھالنا چاہا لیکن وہ جدیدیت کے سامنے ہارگئے اور مافوق الفطرت عناصر پر یقین پھر سے جنم لینے لگا ہے

اگر ہم اپنی مذھبی اقدار کو صحیح طور سے اپنی عملی ذندگی میں نہیں ڈھالیں گے تو دراصل خود شیطان کے پیروکاروں کو خوش آمدید کہنے کے مترادف ہوگا