آخر ہے کیا؟ “Halloween”یہ ہالووین

قومی آواز ۔ ٹورنٹو ۔
ہالووین

Tuesday, October 31, 2017
ہالووین کا نام بہت سننے میں آ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر شخص جاننا چاہتا ہے کہ یہ ہالووین آخر ہے کیا؟
:پس منظر

یہ ایک تہوار ہے جس کا تعلق دو ہزار سال پہلے کے کیلٹک لوگوں کی مذہبی و ثقافتی روایات سے نکلتا ہے۔ یہ لوگ دو ہزار سال پہلے انگلینڈ اور یورپ میں پھیلے ہوئے تھے۔ 31 اکتوبر کو وہ فصلوں کی کٹائی کے موسم کا اختتام ایک تہوار کی صورت میں منایا کرتے تھے۔ اس تہوار کا نام سامحین تھا۔ اس رات کو کیلٹک لوگوں کا نیا سال بھی شروع ہوتا تھا۔ ان کے نزدیک پرانے سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز کا یہ درمیانی وقت بہت نازک ہوتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس وقت مرے ہوئے لوگوں کی روحیں زمین پہ واپس آتی ہیں۔ اس رات وہ لوگ گروہوں کی شکل میں آگ کے الائو جلاتے تھے تاکہ مردہ لوگوں کی ان روحوں کو عالم ارواح میں واپس بھیجا جا سکے تا کہ وہ انہیں زمین پہ آکر کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ لیکن جب عیسائی چرچوں کا اثر رسوخ ان علاقوں میں بڑھا تو ساتویں صدی میں انہوں نے اس تہوار کو کچھ تبدیلیوں کی ساتھ اس سے اگلے دن یعنی یکم نومبر کو اپنے “اولیاء کا دن” “آل سینٹس ڈے” کا نام دے دیا۔ اس طرح ان پرانے کیلٹک لوگوں کی مذہبی و ثقافتی روایات کو عیسائیت کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ اس طرح یہ ان کے مذہبی شہداء اور اچھے مذہبی لوگوں کو یاد کرنے کا دن بن گیا۔
اس وقت یہ “آل سینٹس ڈے” کو “ھالوماس” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس میں ہالو سے مراد مقدس ہے اور ماس کو سادہ زبان میں چرچ والی سروسز (عبادات) کہا جا سکتا ہے۔

اس طرح اس دن سے پہلے والی شام کو آل ھالووز ایو کہا جانے لگا۔ ایو سے مراد مختصر طور پہ ایووننگ لکھنا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ  آل ھالووز ایو تبدیل ہو کر ہالووین بن گیا۔ امریکہ میں اس دن کا آغاز تب ہوا جب آئرلینڈ کے باسی 1840 میں امریکہ میں آباد ہوئے۔ وہ اپنے ساتھ اس فیسٹول پہ پہننے والے خاص کپڑے اور چہرے پہ پہننے والے ماسک لے کے آئے تھے۔ اس دن وہ ہمسائوں اور دوسرے لوگوں کو تنگ کرتے اور ماسک پہنتے کہ پہچانے نہ جا سکیں۔ پھر یہ تنگ کرنا بڑھتے بڑھتے 1930 کے عشرے تک ایک عذاب بن گیا۔ تب لڑکے ماسک پہنتے ، لوگوں سے کھانے کی چیزیں مانگتے اور انکار کرنے پہ انہیں حد سے زیادہ تنگ کرتے کہ ان کا سکون غارت ہو جاتا۔ یہ سب بہت تکلیف دہ تھا۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ ایک غیر تکلیف دہ اور چھٹیوں میں منانے والا تہوار بن گیا۔

مختصر طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس تہوار کی بنیاد اس قدیم کیلٹک مذہبی روایت پہ ہے کہ اس رات دنیا کی طرف واپس آنے والی بد روحوں کو ڈرا کر واپس بھیجا جائے۔ علماء کے مطابق اسلام میں کسی ایسے تہوار منانے یا اس کا حصہ بننے سے روکا گیا ہے جس کی بنیاد کسی غیر اسلامی جاہلانہ مذہبی روایت پہ ہو۔ ایسا کرنا ان لوگوں کے پیچھے چلنے کے مترادف ہوگا جس سے ہمارے پیارے پیغمبر نے نہ صرف روکا بلکہ اپنی امت کو خبردار بھی کیا۔

:ایک تہوار

مغرب میں منایا جانے والا ’’ہالو وین‘‘ ایک تہوار ہے جس میں گلی کوچوں، مارکیٹوں، پارکوں اور دیگر مقامات پر جابجا ڈراؤنے چہروں اور خوف ناک لبادوں میں ملبوس چھوٹے بڑے بھوت اور چڑیلیں چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اکثر گھروں کے باہر بڑے بڑے کدو پِیٹھے نظر آتے ہیں جن پر ہیبت ناک شکلیں تراشی گئی ہوتی ہیں اور ان کے اندر موم بتیاں جل رہی ہوتی ہیں۔ کئی گھروں کے باہر ڈراونے ڈھانچے کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور ان کے قریب سے گزریں تو وہ ایک خوف ناک قہقہہ لگا کر دل دہلا دیتے ہیں۔ کاروباری مراکز میں بھی یہ مناظر اکتوبر شروع ہوتے ہی نظر آنے لگتے ہیں۔ 31 اکتوبر کو جب تاریکی پھیلنے لگتی ہے اور سائے گہرے ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو ڈراؤنے کاسٹیوم میں ملبوس بچوں اور بڑوں کی ٹولیاں گھر گھر جاکر دستک دیتی ہیں اور  ٹرک و ٹرییٹ   کی صدائیں بلند کرتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یا تو ہمیں مٹھائی دو، ورنہ ہماری طرف سے کسی چالاکی کے لیے تیار ہو جاؤ۔ گھر کے مکین انہیں ٹافیاں اور میٹھی گولیاں دے کر رخصت کر دیتے ہیں۔ امریکا میں ہالووین کی ابتدا 1921ء میں شمالی ریاست منیسوٹا سے ہوئی اور اس سال پہلی بار شہر کی سطح پر یہ تہوار منایا گیا۔ پھر رفتہ رفتہ دو ہزار سال پرانا یہ تہوار امریکا کے دوسرے قصبوں اور شہروں تک پھیل گیا اور پھر اس نے قومی سطح کے بڑے تہوار اور ایک بہت بڑی کاروباری سرگرمی کی شکل اختیار کرلی۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے ’’ہالووین‘‘ کا سراغ قبل از مسیح دور میں برطانیہ کے علاقے آئرلینڈ اور شمالی فرانس میں ملتا ہے جہاں سیلٹک قبائل ہر سال 31 اکتوبر کو یہ تہوار مناتے تھے۔ ان کے رواج کے مطابق نئے سال کا آغاز یکم نومبر سے ہوتا تھا۔ موسمی حالات کے باعث ان علاقوں میں فصلوں کی کٹائی اکتوبر کے آخر میں ختم ہوجاتی تھی اور نومبر سے سرد اور تاریک دنوں کا آغاز ہو جاتا تھا۔ سردیوں کو قبائل موت کے ایام سے بھی منسوب کرتے تھے کیوںکہ اکثر اموات اسی موسم میں ہوتی تھیں۔ قبائل کا عقیدہ تھا کہ نئے سال کے شروع ہونے سے پہلے کی رات یعنی 31 اکتوبر کی رات کو زندہ انسانوں اور مرنے والوں کی روحوں کے درمیان موجود سرحد نرم ہوجاتی ہے اور روحیں دنیا میں آکر انسانوں، مال مویشیوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ روحوں کو خوش کرنے کے لیے سیلٹک قبائل اس رات آگ کے بڑے بڑے الاؤ روشن کرتے تھے، اناج بانٹتے تھے اور مویشیوں کی قربانی دیتے تھے۔ اس موقع پر وہ جانوروں کی کھالیں پہنتے اور اپنے سروں کو جانوروں کے سینگوں سے سجاتے تھے۔ امریکا دریافت ہونے کے بعد بڑی تعداد میں یورپی باشندے یہاں آکر آباد ہوئے۔ وہ اپنے ساتھ اپنی ثقافت اور رسم و رواج اور تہوار بھی لے کر آئے۔ کہا جاتا ہے کہ شروع میں ہالووین میری لینڈ اور جنوبی آبادیوں میں یورپی تارکین وطن مقامی طور پر چھوٹے پیمانے پر منایا کرتے تھے۔ جن میں ایک بڑی تعداد آئرش باشندوں کی بھی تھی۔ ان کی آمد سے اس تہوار کو بڑا فروغ اور شہرت ملی اور اس میں کئی نئی چیزیں بھی شامل ہوئیں جن میں، ٹرک آر ٹریٹ، خاص طور پر قابل ذکر ہے، جو آج اس تہوار کا سب سے اہم جزو ہے۔ 1950 کے لگ بھگ ہالووین کی حیثیت مذہی تہوار کے بجائے ایک ثقافتی تہوار کی بن گئی جس میں دنیا کے دوسرے حصوں سے آنے والے تارکینِ وطن بھی اپنے اپنے انداز میں حصہ لینے لگے۔ رفتہ رفتہ کاروباری شعبے نے بھی ’’ہالووین‘‘ سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے نت نئے کاسٹیوم اور دوسری چیزیں مارکیٹ میں لانا اور ان کی سائنسی بنیادوں پر مارکیٹنگ شروع کردی۔ یہاں تک کہ اب ’’ہالووین‘‘ اربوں ڈالر کے کاروبار کا ایک بہت بڑا ثقافتی تہوار بن چکا ہے۔

ہالووین منانے کا شرعی حکم کیا ہے؟

ایسے تمام افعال اور رسوم و رواج جو کسی خاص تہذیب، مذہب یا نظریے سے پھوٹتے ہوں اور ان کی پہچان سمجھے جاتے ہوں، ان کو بطور تہوار منانا اہلِ اسلام کے لیے جائز نہیں۔ کیونکہ پیغمبرِ اسلام صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
من تشبه بقوم فهو منهم
’’جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔‘‘
(ابوداؤد)
لیکن ایسے اعمال جن کا تعلق کسی مذہب و تہذیب سے خاص نہ ہو بلکہ مختلف قومیں بلاتخصیص ان کو انجام دیتی ہوں، ان کا کرنا مباح ہے۔
ہالووین مغربی تہذیب کا تہوار ہے جس کا آغاز آئرلینڈ کے قبائل نے کیا۔ ان قبائل کا عقیدہ تھا کہ 31 اکتوبر کی رات کو زندہ انسانوں اور مرنے والوں کی روحوں کے درمیان موجود سرحد نرم ہوجاتی ہے اور روحیں دنیا میں آکر انسانوں، مال مویشیوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ روحوں کو خوش کرنے کے لیے قبائلی 31 اکتوبر کی رات آگ کے الاؤ روشن کرتے، اناج بانٹتے اور مویشیوں کی قربانی دیتے تھے۔ ہالووین کی موجودہ رسم اسی سوچ کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ ایسے تہوار منانا اسلام میں جائز نہیں بلکہ غیرمسلموں کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے حرام ہے۔ لیکن مشترک معاشرے اور مغربی دنیا میں رہتے ہوئے مسلمان ایسے تہواروں میں بطور مہمان شریک ہوسکتے ہیں کیونکہ اس سے غلط فہمیوں اور باہمی نفرت و کھچاؤ کی فضاء کے خاتمے میں مدد ملے گی اور اسلام کے تصورِ رواداری کو فروغ ملے گا۔ ایسی صورت میں تہوار کی مبارکباد یا تحفہ وغیرہ دینا جائز ہے، بشرطیکہ دل میں ان تہواروں کی عظمت ہرگز نہ ہو۔


متعلقہ خبریں