لیڈر اور نکاح….جاوید کاہلوں….اندازِفکر

عمران خان نے اپنی پہلی بیوی جمائما خان کو طلاق دی، بہت سال پھر کنوارہ رہا۔ بعد میں بی بی سی ٹیلیویژن کی ایک ”موسمی خاتون“ ریحام خان سے نکاح کیا جو ایک سال بھی قائم نہ رہ سکا۔ نتیجہ پھر سے طلاق ہو چکی۔ اب چونکہ عمران خان سیاست میں ہیں بلکہ اس وقت ایک اندازے کے مطابق وہ پاکستان کی سرفہرست، ہر دلعزیز شخصیات میں سے ایک ہیں‘ لہٰذا ان کی تازہ طلاق پر عوام میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ چیختا چنگاڑتا میڈیا بھی دن رات اس ”سماجی رابطے“ کے قطع ہونے پر بال کی کھال اتارنے میں لگا ہے، شاید اس سے ان کی ریٹنگ بڑھ یا گھٹ رہی ہو۔ وجہ کچھ بھی ہو‘ یہ ایک حقیقت ہے کہ لاہور سے لندن تک چیئرمین تحریک انصاف کی خانگی زندگی ایک پسندیدہ موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے اور ہر خاص و عام‘ مردوزن اپنے اپنے ذوق کے مطابق اس پر رائے زنی بھی کر رہا ہے۔ دراصل عوامی زندگی میں متحرک لیڈروں کی ذاتی زندگی بھی ان کی ذاتی نہیں رہتی اور عوام ان کے خانہ استراحت میں بچھی ”منجی کے نیچے تک ڈانگ“ پھیرنے کو بھی اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ذاتیات کی ایسی کھوج لگانا اور رکھنا مزاج میں نہ تو مشرقی ہے اور نہ ہی مغربی۔ بلکہ اس طلاق کی خبر کے اگلے ہی روز یہ خبر بھی شائع ہو چکی ہے کہ مشرق کیا‘ مغرب کے کچھ طاقتور میڈیا ہاﺅسز نے بھی ریحام خان کو اپنی تقریباً دس ماہ کی نجی زندگی پر انٹرویو دینے اور یادداشتیں قلم بند کرنے کیلئے لاکھوں پاﺅنڈز معاوضہ دینے کی پیشکش بھی کر دی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چسکا لگاتی مشرقی اور مغربی سوسائٹیوں میں لاکھوں کی پیشکش کرنے والے پبلشرز کو ایسے مواد سے کروڑوں کے منافع کی توقع ہوگی، وگرنہ کون ہے جو گھاٹے کا سودا‘ جان بوجھ کر کرتا ہے۔


متعلقہ خبریں